عالمی اداروں کا مشرق وسطیٰ جنگ پر مشترکہ ردعمل کا فیصلہ

مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے عالمی معیشت اور توانائی کے شعبے پر بڑھتے اثرات کے پیشِ نظر عالمی مالیاتی فنڈ، عالمی بینک اور بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے مشترکہ طور پر ایک رابطہ گروپ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ اس بحران سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔
ان اداروں کے سربراہان نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ جنگ نے خطے میں شدید خلل پیدا کیا ہے اور عالمی توانائی منڈی کی تاریخ میں سپلائی کی بڑی قلت کو جنم دیا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ غیر یقینی صورتحال میں ضروری ہے کہ عالمی ادارے مل کر حالات کا جائزہ لیں، تجزیات کو ہم آہنگ کریں اور پالیسی سازوں کی رہنمائی کریں۔
بیان میں کہا گیا کہ نیا رابطہ گروپ مختلف ممالک پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لے گا، ردعمل کے لیے حکمت عملی تیار کرے گا اور متاثرہ ممالک کی مدد کے لیے وسائل کو متحرک کرے گا۔ اس میں پالیسی مشاورت، مالی ضروریات کا تخمینہ، کم یا بغیر شرح سود کے قرضوں کی فراہمی اور دیگر خطرات سے نمٹنے کے اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔
عالمی اداروں کی افغانستان میں بڑھتے دہشتگرد نیٹ ورکس پر تشویش
جنگ کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور یہ تنازعہ اب دوسرے مہینے میں داخل ہو کر پورے خطے میں پھیل چکا ہے۔ اس کے باعث توانائی کی ترسیل متاثر ہوئی ہے اور عالمی معیشت کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
عالمی اداروں نے خبردار کیا کہ اس بحران کے اثرات غیر مساوی ہیں اور خاص طور پر توانائی درآمد کرنے والے غریب ممالک زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ تیل، گیس اور کھاد کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ خوراک کی قیمتوں میں بھی اضافے کا خدشہ ہے، جبکہ عالمی سپلائی چین اور سیاحت کا شعبہ بھی متاثر ہوا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ، کرنسی کی کمزوری اور مہنگائی کے خدشات کے باعث معاشی نمو متاثر ہو سکتی ہے۔ عالمی اداروں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ مل کر عالمی معاشی استحکام، توانائی تحفظ اور متاثرہ ممالک کی بحالی کے لیے کام جاری رکھیں گے۔














